علم و تعلیم ....
کسی تہذیب کی نشو نما اور اسکے ارتقاء کی بنیاد علم و تعلیم کی ایسی فضا کے وجود پر منحصر ہے جس میں اسکے اجتہادی عمل پر گھیراو نا ہو . جہاں سوچ کے زاویے متعین نا کئے گئے ہوں . جہاں انسانی احساسات وحی کی تمام تر تجلیوں میں روشن ہوں. جہاں اظہار پر پہرے نا بٹھائے گئے ہوں. جہاں 'کیوں' اور 'کیسے' کو رلیگیٹ کرنے کے بجائے انہیں سراہنے کا رواج ہو. جہاں وحی کی وسعتوں میں کوئی حد نظر طئے کرنے والا نا ہو . تب علم کے نئے دبستان وجود میں آتے ہیں جو قوموں کو زندگی اور تہذیبوں کو روشن ترقی سے ہمکنار کرتے ہیں. بارئ تعالی نے یہ کائنات انسانوں کے لئے مسخر کی ہے. اسے قوت اختیار سے نوازا اور دولت علم سے سرفراز کیا ہے . ان تینوں(کائنات، علم، قوت اختیار)کا انسان سے گہرا تعلق ہے. دراصل اپنی علمی و اختیاری قوت کے ذریعہ اس کائنات کو سنوارنا ہی انسان سےخدا کو مطلوب ہے. انسانی تمدن کی یہ معراج جہاں آج انسان خود کو پاتا ہے اسی علمی قوت کا نتیجہ ہے جس پر خدا نے فرشتوں کے اعتراض پر 'انی اعلم ما لا تعلمون' کہا تھا.
معلومات کے خزانے علم نہیں کہلاتے، ورنہ گوگل کا سر نام علامہ ہوا کرتا. معلومات کو ذہنی پروسیز سے گزار کر ملنے والا نتیجہ علم ہوتا ہے. یہ خالص تخلیقی عمل ہے. جس قوم کی قوت تخلیق جتنی مضبوط ہوگی دنیا میں اسکا علمی کنٹریبیوشن اتنا ہی زیادہ ہوگا اور حقیقت یہ ھیکہ دنیا میں فیصلے کرنے کا اختیار علمی کنٹریبیوشن کے شیئر پر ڈپینڈ کرتا ہے. کرنا بھی چاہئے ورنہ بگاڑ کے باب در باب روشن ہوتے رہینگے.
اسلام نے علمی استفادے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے. علم انسانی تاریخ کا مشترکہ سرمایہ یے اسلئے اس پر ٹھیکیداری کا ہر دعوی جھوٹا ہے. ہاں یہ صحیح ہے کہ آج علم کی وراثت تقریبا مغرب کے ہاتھوں میں ہے. حد یہ ھیکہ کوئی بھی علم ، علم نہیں ہوتا جب تک اس پر یورپ کی مہر نا لگ جائے. لیکن اس کے ردعمل میں علوم پر 'اسلامی مہر' لگا دینا علم کا اسلامی کرن نہیں کہلا سکتا. دنیا کے تمام علوم اسلامی علوم ہیں اگر وہ کائنات کو سنوارنے اور اسے برتنے میں آسانیاں پیدا کرے. اسلام میں علم کا راست تعلق خلافت سے ہے اور خلافت اس ذمہ داری کا نام ہے جس میں انسان الہی ڈور کو تھامے دنیا سنوارنے کی کوشش کرتا ہے.
نجم السحر
Comments
Post a Comment